امریکہ اور چین کے مابین اختلافات اور خطرناک تناؤ بڑھ رہا ہے

عالمی مبصرین چین اور امریکہ کے مابین مسلسل بڑھتے ہوئے تناؤ، چین اور بھارت کے مابین سرحدی تصادم اور امریکہ کی طرف سے بھارت کی کھلی حمایت کو بدلتے ہوئے عالمی منظر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

چین سے شرور ہونے والی کرونائی عالمی وبا کی شروعات کے بعد سے چین اور امریکہ کے ایک دوسرے پر الزامات سنگین نوعیت کے اختلافات کی طف بڑھ رہے ہیں ۔ امریکہ نے چین کے مفادات کیخلاف کئی طرح کی پابندیاں لگائی ہیں ، جبکہ چینی ترجمان نے کہا ہے کہ چین امریکہ کے اس عالمی مقام کو چھیننے کی کوشش نہیں کر رہا جو اسے عالمی سپر پاور کے طور پر حاصل ہے۔ اس کے ساتھ چین نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے اپنے خلاف اقدامات اور الزامات کا پوری طاقت سے مقابلہ کرے گا اور جواب دے گا۔
 

چینی ترجمان نے یہ بیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر لگائے جانے والے سنگین الزامات کے فوری رد  عمل میں  دیا ہے۔

چینی ترجمان ہوا چن ینگ کے مطابق چین کیلیے سب سے اہم بات اپنے شہریوں کے ذرائع آمدنی اور معاشی حالات بہتر بنانا اور پائیدار عالمی امن و استحکام قائم رکھنا ہے۔ جب کہ چین پر تنقید کرنے والے عالمی مبصرین کے مطابق چین کی خارجہ پالیسی مسلسل جارحانہ ہو رہی ہے۔ بھارت کے ساتھ لداخ کے محاذ پر چینی جارح انداز ، چین کی فوجی طاقت، جدید ٹیکنالوجی، اقتصادیات اور دوسرے شعبوں میں واضع طور پر طاقت اور برتری کا انداز چین کے ایک عالمی قوت بن کر ابھرنے کی طرف اشارہ ہےں۔
 
چینی ترجمان نے کہا کہ ایک خود مختار ملک کے طور پر چین کو اپنے عوام کی سخت کوششوں اور جدو جہد سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے تحفظ اور چین کے خلاف کسی انداز میں ناانصافی ، جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔ امریکہ کی طرف سے چین کیخلاف بدنیتی پر مبنی الزامات ، علاقائی خودمختاری، قومی سلامتی اور ملکی مفادات کی پقری حفاظت کا حق حاصل ہے۔
 
خیال رہے کہ چینی ترجمان کی طرف سے یہ بیان امریکی اٹارنی کی اس تقریر کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے امریکی کاروباری برادری کے راہنماؤں کو چین کی ان پالیسیوں کے بارے میں انتباہ کیا تھا جو چین کے مفادات کیلئے سود مند ہیں۔
 
امریکی اٹارنی جنرل نے الزام لگایا تھا کہ چین نے کرونا وائرس کی عالمی وبا کے آغاز پر نہ صرف عالمی منڈی میں اپنے مفادات کیلئے غلبہ حاصل کرنے کیلئے چین پر امریکہ کے انحصار کو اجاگر کرنے کی پالیسی اپنائی ۔ اور اپنے خریدار ممالک کیلئے مصنوعات کی برآمدات روک کر ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ان کی معیشت کو شدید نقصانات پہنچائے ہیں ۔
امریکہ نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ چین کی حکومت کے زیر سایہ ویب ہیکرز نے امریکی یونیورسٹیوں اور کاروباری اداروں کی کرونا وائرس کیلئے تیارہ کردہ ویکسین کی تیاری سے متعلق ریسرچ چرانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے چین کے خلاف یہ الزامات ، مغربی ملکوں کی جانب سے روس کے خلاف ایسے ہی الزامات لگائے جانے کے کچھ گھنٹوں کے بعد لگائے ہیں۔
 
امریکہ انتظامیہ کا الزام ہے کہ چین کی حکومت، اس کے کاروباری ادارے اور سول سوسائٹی ، عالمی معیشت پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کی سپرپاور امریکہ پر برتری کیلئے مسلسل مہم چلا رہا ہے۔
 
صدر ٹرمپ اور ان کی کابینہ کے ارکان گذشتہ کئی دنوں سے چین کے خلاف انتہائی کڑے انداز میں تنقید، ٹیکنالوجی کی چوری کے الزامات لگا رہے ہیں ۔ جبکہ جنوبی بحیرہ چین میں چین کے دعوؤں کے حوالوں سے دونوں بڑے ملکوں کے تعلقات کئی دہائیوں سے تناؤ کا شکار ہیں ۔
 

چین پر مسلسل دباؤ بڑھانے کیلئے سائبر حملوں سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے چینی ترجمان نے ویکسین سے متعلق ان کے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ 

چینی ترجمان کا کہنا ہے کہ دنا اس امر سے باخبر ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری میں چین سے سے آگے ہے۔ ہمارے پاس عالمی معیار کے ریسرچ ادارے اور بہترین سائنس دان ہیں، لہذا ہمیں چوری کے ذریعے عالمی نمبر وان پوزیشن حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
 
عالمی مبصرین چین اور امریکہ کے مابین مسلسل بڑھتے ہوئے تناؤ، چین اور بھارت کے مابین سرحدی تصادم اور امریکہ کی طرف سے بھارت کی کھلی حمایت کو بدلتے ہوئے عالمی منظر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
فاروق رشید بٹ
عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیام بر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، کالم نویس ، شاعر اور ورڈپریس ویب ماسٹر ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

تازہ ترین خبریں

کورونا بحران کے باعث ٹی 20 ورلڈ کپ ملتوی کر دیا گیا

انرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے یہ حتمی بیان سامنے آ...

ایران میں حکومت کے مخالف صحافیوں کو سخت سزاؤں کا سلسلہ جاری ہے

مغربی اور امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی سرکاری عدالت نے وائس...

Comments

Leave a Reply

تازہ ترین خبریں