چین بھارت تنازعہ اور لداخ کی سرحد کی تازہ ترین صورت حال

کورونا بھیلاؤ کی حساس صورت حال میں بھارت کو چین کی مضبوط فوجی طاقت کے سامنے ایک بڑے سیاسی اور فوجی  چیلنج  کا بھی سامنا ہے

جہاں ساری دنیا کورونا وائرس  کی وجہ سے پیدا ہونے والے طبعی اور مالی بحرانوں  کیخلاف  مسلسل جدوجہد میں مصروف ہے ۔  وہاں   بھارت  کو کورونا کے وبائی  پھیلاؤ کی  سنگین صورت حال میں چین  کی  مضبوط فوجی طاقت کی طرف سے  ایک بڑے سیاسی اور فوجی  چیلنج  کا بھی سامنا  ہے۔ ہندوستانی اور چینی فوجیں  لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے متنازعہ مشرقی علاقہ جات میں آمنے سامنے  ہیں۔
 
چینی فوجی دستے بھارت کے چار سے پانچ کلو میٹر اندر داخل ہونے کے بعد بھارتی فوج نے پینگونگ تس اور وادی گیلوان میں اپنی فوجی طاقت بڑھا دی ہے۔  ان متنازعہ علاقوں میں فوجی نقل و حمل سے اندازہ ہوتا ہے  کہ چینی فوج عارضی بنیادی ڈھانچے کو بتدریج بڑھانے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہے۔ بھارتی فوج ڈیمچوک اور دولت بیگ اولڈی سمیت متعدد حساس علاقوں میں “جارحانہ گشت” کر رہی ہے ۔
 

اس کشیدہ صورت حال  کو سمجھنے کیلئے کچھ بنیادی  حقائق جاننا ضروری  ہیں۔

 
پچھلے دس دن کے دوران  چین نے وادی گالان کے ایک بڑے حصے پر  اپنا  مضبوط فوجی کنٹرول حاصل کر لیا  ہے جس میں لداخ  کا  کچھ حصہ بھی شامل ہے۔ چینی فوجیں ہندوستان کی حدود میں  چار پانچ  کلومیٹر اندر داخل ہوگئیں ہیں۔ وادی گالان کا یہ علاقہ چین اور بھارت  کے مابین 1962 کی جنگ کے  دوران میں سخت جنگی  جھڑپوں  کا علاقہ تھا۔ یہ ساٹھ کی دہائی کے بعد چین کی لائن آف ایکچول کنٹرول کے اس حصے میں واضع ردوبدل کی پہلی کوشش ہے۔
 
ہندوستان نے اپنی فوج کی ایک بڑی تعداد کو اس  حساس علاقے میں منتقل کیا ہے تاکہ چودہ ہزار فٹ بلند اس علاقے میں چین کی  فوجی قوت کا مقابلہ کیا جاسکے ۔
 
بھارت اور چین کے مابین معاہدے کے مطابق ابھی تک ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی ہے۔ بارڈر تغیرات عام طور پر  دستی لڑائی اور مار کٹائی کے جھگڑوں  تک محدود ہوتے ہیں۔ لیکن اس بار  لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں کے استعمال کی اطلاعات ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ چین لداخ کے ایک حصے پر دعویٰ کرنے اور ہندوستان کے لئے  مشکل بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی تیاریوں کی بنیاد بنانے  کی تیاری کر رہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق ، چینی فوج کے دس ہزار  جوان  بھاری فوجی سازو سامان کے ساتھ یہاں موجود ہیں ۔ اور  اس پورے علاقے میں  پوسٹیں اور مورچہ  بندی کا عمل جاری ہے۔
 
عالمی تجزیہ  کاروں کے مطابق  چین اس لداخ کے ایک حصے سمیت پوری گالان وادی کی ملکیت کا دعوی کرنے کے لئے  بھارتی سرزمین کے اندر فوجیوں کو آباد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ گالوان دریا متنازعہ اکسائی چن خطے سے بہتا ہے ، جو لداخ میں داخل ہونے سے پہلے بھارت کے اپنے دعویدار چین کے سنکیان خطے میں جاتا ہے۔
 
چینی فوج  کا نیا قبضہ بھارت کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس سے بھارتی فوج کے لئے قراقرم کے قریب   کے سب سیکٹر ز میں تعینات اپنی فوجی طاقت کو  کنٹرول  کرنا اور ان کی مدد کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا ۔
 
چینی اقدامات کو  بھارت کی طرف سے ریاست آزاد جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کے اس فیصلے کے رد عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے لداخ کو آزاد یونین علاقہ بنایا جا رہا ہے۔ چین نے اس سے قبل اقوام متحدہ میں یہ حساس معاملہ اٹھایا ہے کہ یہ بھارتی فیصلہ اس کے  علاقائی  معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔
۔
لداخ سے لے کر چین کے سنکیانگ علاقے تک کا وسیع پیمانے  کا بنجر علاقہ اکسائی چن   بھارت اور چین کے مابین  مسلسل سیاسی تنازعات  اور  فوجی سرگرمیوں  کا مرکز رہا ہے۔
۔
 اس حساس علاقے میں  دونوں ممالک کی حالیہ  فوجی سرگرمیاں مستقبل میں  کسی بڑی جنگ کی شروعات  کا سبب بن سکتی ہیں ۔
فاروق رشید بٹ
عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیام بر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، کالم نویس ، شاعر اور ورڈپریس ویب ماسٹر ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

تازہ ترین خبریں

کورونا بحران کے باعث ٹی 20 ورلڈ کپ ملتوی کر دیا گیا

انرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے یہ حتمی بیان سامنے آ...

ایران میں حکومت کے مخالف صحافیوں کو سخت سزاؤں کا سلسلہ جاری ہے

مغربی اور امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی سرکاری عدالت نے وائس...

Comments

Leave a Reply

تازہ ترین خبریں