افغان ٹین ایجر گرلز نے آٹو پارٹس سے وینٹی لیٹر بنا دیا

صرف چودہ سے سترہ سال کی عمر کی سکول گرلز نے کورولا گاڑی اور ہنڈا موٹر ساائیکل کے پرزوں سے وینٹی لیٹر تیار کیا ہے

افغانستان میں ہائی سکول کی نوجوان لڑکیوں کے ایک گروپ  نے  کورونا وائرس کے مریضوں کی مدد کیلئے  گاڑیوں کے پرزوں کی مدد سے انتہائی سستے  وینٹی لیٹر بنانے شروع کیے ہیں۔ ہونہار نوجوان لڑکیوں کی اس ٹیم نے 2017 میں امریکہ میں منعقد ہونے والے ایک روبوٹکس مقابلے میں روبوٹ بنانے پر خصوصی انعام جیتا تھا۔
 
ہمسایہ اسلامی ملک فغانستان میں اس وقت کورونا وائرس  کے مریضوں کی تعداد آٹھ ہزار  کے قریب ہے۔ جبکہ اب تک   دو سو کے قریب  افراد  جاں بحق   چکے ہیں۔ افغان حکومت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ  آنے والے دنوں میں کورونا کے پھیلاؤ کی  صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
 
افغان حکام کے مطابق ملک کی تقریباً چار کروڑ کی آبادی والے ملک میں مریضوں کے علاج کیلئے صرف 400 وینٹی لیٹر موجود ہیں، جو بہت نا کافی ہیں ۔
روبوٹ  اور گاڑیوں کے پرزوں سے وینٹی لیٹر بنانے والی ان لڑکیوں کی ٹیم کی ایک رکن  سترہ  سالہ سکول گرل ناہید رحیمی کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنی محنت اور جدوجہد سے کسی انسان  کی ایک زندگی  بھی بچا لیں تو یہ بہت بڑی بات ہو گی۔
 
‘دنیا میں افغان ڈریمر کے نام سے مشہور افغان لڑکیوں کا یہ متحرک اور ذہین گروپ  افغانستان کے علاقہ  ہرات سے تعلق رکھتا  ہے۔ اور اسی علاقہ میں  کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد افغانستان میں سب سے زیادہ ہے۔ خیال رہے کہ ہرات کا علاقہ کورونا سے شدید متاثرہ ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
 
پچھلی دو دہائیوں سے جنگ اور بارود سے تباہ حال افغانستان میں ابھی نوجوان نسل کے ٹیلنٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روبوٹکس سائینس  کی یہ سب طالبات  ابھی ٹین ایجرز ہیں ۔ جن کی  عمریں صرف 14 سے 17 برس کے درمیان ہیں۔ ان کے ٹیلنٹ اور محنت کا یہ انوکھا مظاہرہ ہے کہ یہ ہونہار لڑکیاں  ٹیوٹا کرولا گاڑی کی موٹر اور ہونڈا موٹر سائیکل کی چین استعمال کر کے انہائی کم قیمت وینٹی لیٹر  بنا رہی ہیں۔
اس ٹیم کی سربراہ سومایہ فاروقی  نے فخریہ اناز سے کہا  میں ایسی ٹیم کا حصہ ہوں جو ہسپتاالوں میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی مدد کر رہی ہے۔ کیونکہ کورونا کے اس وبائی پھیلاؤ میں میڈیکل سٹاف کے لوگ ہمارے ہمارے ہیروز ہیں۔  انہوں نے بتایا کہ  وہ  صرف چھ سو ڈالر کی لاگت سے وینٹی لیٹر تیار کر رہی ہیں۔  جبکہ دنیا میں کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کے بعد دنیا میں وینٹی لیٹرز کی ڈیمانڈ  میں بے پناہ  اضافہ ہو گیا ہے۔  اور ایک ونٹیی لیٹر کی  قیمت چالیس ہزار کے قریب  ہے۔
اس گروپ کی نگران اور سرپرست  بزنس وومن رویا محبوب نے بتایا کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ  اس مئی کے آخر تک اپنی اس ایجاد کو ایک حتمی شکل میں مارکیٹ میں لے آئیں۔
افغان حکومت نے ان نوجوان لڑکیوں کی جانب سے وینٹی لیٹر بنانے کی کوششوں کو سراہا  ہے ، اس حوالے سے  افغان صدر اشرف غنی نے  اعلی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ لڑکیوں کے اس پراجیکٹ کی نگرانی کریں اور  ان کی حوصلہ افزائی  کیلئے  انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے 
فاروق رشید بٹ
عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیام بر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، کالم نویس ، شاعر اور ورڈپریس ویب ماسٹر ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

تازہ ترین خبریں

کورونا بحران کے باعث ٹی 20 ورلڈ کپ ملتوی کر دیا گیا

انرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے یہ حتمی بیان سامنے آ...

ایران میں حکومت کے مخالف صحافیوں کو سخت سزاؤں کا سلسلہ جاری ہے

مغربی اور امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی سرکاری عدالت نے وائس...

Comments

Leave a Reply

تازہ ترین خبریں