کورونا ویکسین کے تجربات کی تازہ ترین صورت حال

امریکہ اور برطانیہ کی چھ جبکہ چین کے دو اداروں کی تیار کردہ ویکسین کو انسانوں پر تجربات کیلئے منظوری مل گئی ہے

دنیا کے سائینس دان کورونا  کے علاد کیلئے ویکسین تیار کرنے کی سرتوڑ   کوششوں میں ہیں ۔اس حوالے سے   برطانیہ  کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور اسڑا زینکا  کی تیار کردہ  ایک ویکسین  انسانوں پر تجربات کے آخری مرحلے میں  ہے۔  انسانی  جسم  اور اس کی قور مدافعت  پر مثبت یا منفی اثرات پرکھنے کیلئے  ان تجربات کیلئے ہر عمر سے تعلق رکھنے والے  دس ہزار رضاکار بھرتی کیے گیے  ہیں ۔ جبکہ امریکہ نے  اس ویکسین  تجربات  پروگرام کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کے فنڈز دیے ہیں۔
 
آکسفورڈ یونیورسٹی  کے مطابق  دس ہزار سے زائد رضاکاروں  کو  یہ  ویکسین دے کر یہ مشاہدات کیے جائیں گے  کہ انسانوں کے مدافعیاتی  نظام  اور دیگر جسمانی اعضا پر اس کے اثرات و ردعمل  کیا  ہیں ۔ اور  مختلف عمروں کے انسانوں پر اس ویکسین کا  استعمال  کس حد تک محفوظ ہے۔  انسانوں پر ویکسین کے تجربات کے لیے ایسے افراد کو چنا گیا ہے  تعلق  میڈیکل پیشہ   سے ہو یا وہ  این جی او   اداروں کیلئے کام کرنے والے خدماتی کارکن ہوں۔  تاکہ ایسے افراد ویکسین کے مثبت اور منفی اثرات اور احساسات کے بارے  واضع انداز میں  بتا سکیں۔
 
اس سلسلے میں  18 سے 55 سال تک کی عمر کے  لوگوں کو انجیکشن دینے کا آغاز  23 اپریل کو  کیا گیا تھا۔ آکسفورڈ  یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق ویکسینیشن کی آزمائش کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں 56 سال سے زیادہ  عمر کے افراد  اور   پانچ سے بارہ   سالہ  بچوں کو شامل کیا جائے گا۔
 
برطانوی  میڈیسن کمپنیوں نے  برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ کاروباری معاہدے مکمل کر لئے ہیں۔ ویکسین کے استعمال کے انسانی صحت پر اثرات  کیلئے تجربات و تحقیق  کے بعد  دنیا بھر میں اس کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔
عالمی ادارہ صحت نے گذشتہ ہفتے  15 مئی کو انسانوں پر تجربات کے لیے صرف آٹھ ویکسین ادویات کی منظوری دی تھی۔ ان میں امریکہ اور برطانوی اشتراک سے بنائی جانے والی ماڈرینا انک، انوویا ، فائزر انک اور بائیو این ٹیک نامی ویکسین شامل ہیں۔  اس حوالے سے  چین کی دو کمپنیوں کین سنیو اور سینو ویک کی تیار کردہ ویکسین کو بھی انسانی تجربات کے لیے منظوری مل گئی ہے۔
 
عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق  چین نے ویکسین کے ابتدائی انسانی ٹیسٹ  مکمل کر لئے ہیں۔  ان ویکسین نے انسانی  مدافعاتی نظام کے  ردعمل میں اچھے نتائج ظاہر کئے ہیں ،  لیکن بعض مریضوں پر ان کا منفی اثر  ہوا ہے اور کچھ  کیسوں میں  سخت سائیڈ افیکٹ دیکھے گئے ہیں۔
امید ہے کہ اس جولائی یا اگست تک یہ تجربات مکمل ہو جایں گے، جس کے بعد ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ان ویکسین کی تیاری کی اجازت دے گی۔
فاروق رشید بٹ
عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیام بر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، کالم نویس ، شاعر اور ورڈپریس ویب ماسٹر ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

تازہ ترین خبریں

کورونا بحران کے باعث ٹی 20 ورلڈ کپ ملتوی کر دیا گیا

انرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے یہ حتمی بیان سامنے آ...

ایران میں حکومت کے مخالف صحافیوں کو سخت سزاؤں کا سلسلہ جاری ہے

مغربی اور امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی سرکاری عدالت نے وائس...

Comments

Leave a Reply

تازہ ترین خبریں