افغانستان ہسپتال اور جنازے پر حملوں میں 36 افراد ہلاک

مارچ میں  کابل میں سکھوں کے ایک گرودوارے پر دہشت گردوں کے حملے میں 30 شہری ہلاک ہوئے تھے

 افغانستان کے وزارت داخلہ امور نے بتایا کہ کابل کے مغربی حصے میں  خودکار اسلحہ سے لیس  افراد کے حملے میں بچوں کی پیدائش کے ایک اسپتال میں دو شیر خوار بچوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوگئے
 
طلوع نیوز افغانستان کے حوالے سے بتایا گیا کہ چار گھنٹوں  کی کاروائی  کے دوران  سیکیورٹی فورسز  کے ہاتھوں چار حملہ آوروں کی ہلاکت کے بعد حملہ اپنے اختتام کو پہنچا۔   عینی شاہدوں کے مطابق  حملہ آور افغان فوجی وردی پہنے ہوئے تھے۔ وزارت داخلہ افغانستان کے مطابق اس حملے میں بچوں سمیت 72 عام شہریوں کو بچا لیا گیا۔
 
نائب وزیر برائے پالیسی و پروگرام  ، لوکل گورننس کے آزادانہ نظامت ، تیمور شرن نے ایک ٹویٹ میں کہا ” طالبانی حقانی  یا  داعش سے قطع نظر اس حملے کو جس نے  بھی اور جس مقصد کے لئے بھی کیا۔ بربریت کی اس حد تک سطح کی بات ناقابل تصور اور ناقابل برداشت ہے – ایک ایسے ہسپتال کو نشانہ بنانا جہاں نوزائیدہ بچوں ، حاملہ ماؤں اور پریشان کن خاندانوں کی صورت میں صرف معصوم اور امن پسند شہری تھے، انتہائی بزدلانہ کاروائی
ہے۔
طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق ، افغان طالبان نے مغربی کابل میں پی ڈی 13 کے دشت برچی کے علاقے میں 100 بستروں پر چلنے والے سرکاری اسپتال پر حملے میں کسی بھی طرح کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے ۔ جبکہ عالمی برادری کی طرف سے بھی اس حملے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
 
دوسری طرف  منگل کی صبح  افغانستان کے مشرقی  صوبہ ننگرہار میں ، ایک  جنازے کے موقع پر   دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا ۔ جس میں ذرائع کے مطابق ، 24 افراد ہلاک اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہوگئے۔عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے  طلوع نیوز نے اطلاع دی کہ شیوا میں عوامی بغاوت کے ایک سابق کمانڈر شیخ اکرم کی آخری رسومات کے لئے جمع ہونے والے لوگوں کے مجمع میں دھماکا ہوا۔ اسحملے میں ننگرہار کی صوبائی کونسل کے ممبر عبد اللہ ملک زئی بھی  اپنی جان ہار گیے۔
 
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ملک میں حالیہ حملوں کے بعد ، افغان فورسز کو “جارحانہ” طرز پر تبدیل ہونے اور طالبان پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔  اس سال  فروری کے آخر میں ، امریکہ اور طالبان نے کئی مہینوں کے مذاکرات کے بعد دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کیے تھے ، جس کا مقصد افغانستان میں 18 سالہ طویل جنگ کا خاتمہ کرنا تھا۔
یاد رہے کہ اسی مارچ میں  افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سکھوں کے ایک گرودوارے پر دہشت گردوں کے افسوس ناک حملے میں کم از کم 27 شہری ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
فاروق رشید بٹ
عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیام بر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، کالم نویس ، شاعر اور ورڈپریس ویب ماسٹر ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

تازہ ترین خبریں

کورونا بحران کے باعث ٹی 20 ورلڈ کپ ملتوی کر دیا گیا

انرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے یہ حتمی بیان سامنے آ...

ایران میں حکومت کے مخالف صحافیوں کو سخت سزاؤں کا سلسلہ جاری ہے

مغربی اور امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی سرکاری عدالت نے وائس...

Comments

Leave a Reply

تازہ ترین خبریں