چین اور امریکہ میں بڑھتے ہوئے تناؤ پر مغربی دنیا کی پریشانی

چین میں یورپی یونین کے سفیر نکولس چاپیوس نے کہا کہ چین اور امریکہ میں بڑھتا ہوا تناؤ دنیا کیلئے پریشانی کا باعث ہے

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف  میں چھپنے والی خبر کے مطابق   چین میں یورپی یونین کے سفیر نکولس چاپیوس نے کہا کہ چین اور امریکہ میں بڑھتا ہوا باہمی تناؤ دنیا بھر کیلئے پریشانی کا باعث ہے اور اس سے کورونا وائرس کی وبائی مرض سے نمٹنے کیلئے وسیع المقاصد بین الاقوامی تعاون کو  نقصان پہنچ رہا ہے۔  اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان تناؤ  کی صورت حال پر مغربی دنیا میں پریشانی بڑھ رہی ہے۔
 
نکولس چاپیوس نے  پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین عالمی سطح پر سامان کی فراہمی کیلئے دنیا کے ساتھ مضبوط تجارتی  رشتوں  اور معاشی  تعلقات بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ بڑی معیشتوں کے زوال اور  اور  تحفظات کا  تناؤ کو دور کرنے اور اپنی معاشی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لئے چین ایک  بہترین پوزیشن میں  ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم روز بروز اماریکہ اور چین کے مابین بڑھتے ہوئے  اسٹریٹجک ، معاشی ، سیاسی  تناؤ کو دیکھ رہے ہیں۔ ہماری  رائے کے مطابق یہ تناؤ آج  دنیا  کو جس باہمی تعاون کی روح کی ضرورت ہے اس کے لئے قطعی سازگار نہیں ہے”۔
 
چین اور امریکہ کے مابین تجارتی تناؤ ایک بار پھر بھڑک اٹھنے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے ۔  دونوں ممالک کی  ایک دوسرے پر کڑی تنقید  جاری ہے۔  حالیہ کورونا بحران میں بیجنگ نے کورونا وائرس پھیلنے سے نمٹنے کے لئے بہترین حکمت عملی اپنائی ہے ۔  اس کے ساتھ ساتھ اس نے دنیا کو اس سے نپٹنے کیلئے مدد کی فراہمی اور ممکنہ  تعاون بھی کیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف  امریکی پالیسی  عالمی منڈی میں چین کی سپلائی  پر دباؤ  بڑھانے  پر  مرکوز ہے۔ اس کے نتیجہ میں  دونوں ممالک کے باہمی تعلقات  دباؤ  کا شکار ہیں۔
 
چاپیوس نے کہا ، “مجھے یقین ہے کہ یورپی یونین کی آواز آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔  اس وقت مسائل کا کثیرالجہتی  تعاون دنیا کو لاحق خطرات سے نپٹنے کیلئے  بنیادی عنصر ہے۔  دنیا کو اس  صورت حال میں  کورونا   بحران  کم کرنے اور معاشی بحالی کی تیاری کیلئے  ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہے”۔
 
چاپیوس نے چین پر زور دیا کہ وہ دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے پر یورپی یونین کے ساتھ   مذاکرات میں تعاون   کرے۔  انہوں نے کہا  کہ خوش آئیند امر ہے کہ پچھلے اکتوبر کے بعد سے اب تک مذاکرات کی رفتار بھی بڑھی ہے۔ انہوں  نے کہا ، ” چین اور یورپی یونین  کے مابین معاشی معاہدے کو اگلے چند ہفتوں میں بروقت عملی جامہ  پہنایا  جاسکتا ہے۔ اور اگر ہوا تو  یہ معاہدہ عالمی سطح پر ممالک  کے درمیان تعلقات کی  بحالی کی  کنجی ثابت ہوگا۔
 
چین اور یورپی یونین نے 2013 میں ایک جامع سرمایہ کاری کے معاہدے پر بات چیت کا آغاز کیا تھا ، اور اس کے بعد سے اس کے متعدد مذاکرات ہوئے ہیں۔ اہم نکات میں باہمی مارکیٹ تک رسائی اور ایک سطح کا کھیل کا میدان شامل ہے۔  اگرچہ چینی وفد نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ یورپی یونین اور چین کے مابین آزاد تجارت کے معاہدے پر فزیبلٹی اسٹڈی شروع کرنے پر راضی ہیں ، لیکن یورپی یونین پہلے سرمایہ کاری کے معاہدے کو ختم کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔
 
انہوں نے کہا ، “آئیے ہم قدم بہ قدم کام کریں۔  اگر ہمارے  درمیان سرمایہ کاری کا کوئی جامع معاہدہ نہیں ہے تو یہ  آزادانہ تجارت کے معاہدے کا وقت نہیں ہے۔  خیال رہے کہ  چین  اور یورپی یونین کے رہنماؤں کا اگلا ٹاکرا ستمبر میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں ہونا ہے۔
فاروق رشید بٹ
عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیام بر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، کالم نویس ، شاعر اور ورڈپریس ویب ماسٹر ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

تازہ ترین خبریں

کورونا بحران کے باعث ٹی 20 ورلڈ کپ ملتوی کر دیا گیا

انرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے یہ حتمی بیان سامنے آ...

ایران میں حکومت کے مخالف صحافیوں کو سخت سزاؤں کا سلسلہ جاری ہے

مغربی اور امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی سرکاری عدالت نے وائس...

Comments

Leave a Reply

تازہ ترین خبریں