چین کا مریخ کی جانب خلائی مشن امریکی خلائی برتری کیلئے چیلنج کا اعلان ہے

چینی خلائی مشن کا ہدف اس خلائی گاڑی کو مریخ کے خطِ استوا کے شمال میں وسیع میدانی علاقے میں اتارنا ہے۔ جہاں یہ خلائی گاڑی مریخ کی سطح اور اس سے کچھ نیچے کے ارضیاتی حالات اور ماحول کا تحقیقی جائزہ لے گی۔

بری فضائی اور بحری برتری کی دوڑ کے ساتھ ساتھ اب عالمی سپر پاورز کے درمیان خلائی برتری کیلئے مقابلے کا رحجان ہے۔ اس سلسلے میں اب چین نےبھی مریخ کیلیے اپنی پہلی تحقیقاتی خلائی گاڑی روانہ کر دی ہے۔ اس خلائی گاڑی کو چین کے جزیرے ہائنن سے مقامی وقت کے مطابق 12:40 پر خلائی سفر پر روانہ کیا گیا۔

چینی ذرائع کے مطابق اس کا خلائی مشن تقریباً سات ماہ بعد یعنی فروری، 2021  میں مریخ کے مدار میں پہنچنے کی توقع ہے

 
خلائی گاڑی کا نام تیانوین – ون یعنی ” آسمان کیلیے سوالات ” رکھا گیا ہے۔ یہ خلائی گاڑی منصوبہ کے تحت مریخ کے مدار میں پہچنے کے بعد دو سے تین مہینوں تک مریخ کے مدار کی خلائی تحقیقات کرنے کے بعد مریخ کی سطح پر اترنے کی کوشش کرے گی۔
تیانوین – ون گیارہ دن کے عرصے میں مریخ کی جانب جانے والا تیسرا مشن ہے۔ گذشتہ پیر کو متحدہ عرب امارات نے ہوپ کے نام سے اپنی خلائی سیٹالائٹ ورانہ کی تھی۔ جبکہ اس سلسلے میں امریکی خلائی ادارہ ناسا اس کے ایک ہفتے بعد اپنی سب سے جدید خلائی گاڑی خلا میں روانہ کر رہا ہے۔
 
تیانوین – ون کے  جدید ترین لانگ مارچ راکٹ نے چینی جزیرے ہائنن سے بہترین سازگار موسم میں اپنی کامیاب خلائی پرواز شروع کی ۔ چنی بیس کمانڈر نے کہا کہ ایرو سپیس کنٹرول سینٹر کے مطابق اس خلائی گاڑی کو لیجانے والا پاور فل لانگ مارچ 5 Y-4 راکٹ معمول کے مطابق محوِ پرواز ہے ۔ اور اسے مریخ کی طرف جانے والا خلائی مشن پروگرام کے مطابق طے شدہ راستے پر چل رہا ہے
 
عالمی ماہرین کے مطابق چینی خلائی مشن کا ہدف اس خلائی گاڑی کو مریخ کے خطِ استوا کے شمال میں وسیع میدانی علاقے میں اتارنا ہے۔ جہاں یہ خلائی گاڑی مریخ کی سطح اور اس سے کچھ نیچے کے ارضیاتی حالات اور ماحول کا تحقیقی جائزہ لے گی۔

تیانوین – ون نامی چینی خلائی گاڑی ناسا کی خلائی گاڑیوں اسپیرٹ اور اوپرچونیٹی سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔ اس خلائی گاڑی کا وزن 240 کلو گرام کے قریب ہے اور یہ شمسی توانائی والے پاور سورس پینلوں کی مدد سے چلتی ہے۔

مریخ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلیے اب تک جو خلائی مشن بھیجے گئے ہیں ان میں سے آدھی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے میں چین نے اپنی پہلی کوشش ینگ ہوا -1 نامی سیٹیلائٹ بھیج کر کی تھی جو بحر الکاہل میں گر ناکام رہی۔ یہ بحرالکایل میں گر گئی۔
 
مریخ کیلیے اب تک صرف امریکہ کے طویل مدت خلائی مشن ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں روس کا خلائی مشن مارس -3 اور یورپ کا بیگل – 2 نامی خلائی مشن مکمل ناکام رہے تھے۔ تاہم چین کو حال ہی میں روانہ کی گئی اپنی دو خلائی گاڑیوں سے اعتماد حاصل ہو سکتا ہے جن میں سے ایک نے گزشتہ برس پہلی مرتبہ چاند کے دور دراز علاقے میں لینڈنگ کی۔
 
چین کا خلائی مشن تیانوین -1 لینڈنگ کے وقت اپنی رفتار آہستہ کرنے اور مریخ کی سطح پر پہنچ کر رکنے کے لیے کیپسول، پیراشوٹ اور ریٹرو راکٹ کو استعمال کرے گا۔ اگر یہ سب درست طریقے سے ہو جاتا ہے تو لینڈنگ کا نظام میں موجود ریمپ کی مدد سے خلائی گاڑی مریخ کی سطح پر چلنا شروع کر دے گی۔
فاروق رشید بٹ
عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیام بر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، کالم نویس ، شاعر اور ورڈپریس ویب ماسٹر ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

تازہ ترین خبریں

کورونا بحران کے باعث ٹی 20 ورلڈ کپ ملتوی کر دیا گیا

انرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے یہ حتمی بیان سامنے آ...

ایران میں حکومت کے مخالف صحافیوں کو سخت سزاؤں کا سلسلہ جاری ہے

مغربی اور امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی سرکاری عدالت نے وائس...

Comments

Leave a Reply

تازہ ترین خبریں